بارش کی رات تھی۔ شہر کی سب سے پرانی یونیورسٹی کے آخری کونے میں واقع شعبۂ تاریخ میں صرف ایک شخص موجود تھا—پروفیسر کامران۔
وہ ایک ایسی پرانی ڈائری پر تحقیق کر رہے تھے جو سو سال پہلے ایک طالبہ کی تھی۔ ڈائری کے آخری صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
"جو بھی میرا نام اونچی آواز میں پڑھے گا، میں اسے لینے واپس آؤں گی۔"
پروفیسر ہنس پڑے۔
"یہ سب توہمات ہیں۔"
انہوں نے بلند آواز میں وہ نام پڑھ دیا۔
کمرے کی تمام لائٹس ایک ساتھ بجھ گئیں۔
خاموشی...
پھر راہداری میں کسی کے قدموں کی آواز گونجی۔
ٹک... ٹک... ٹک...
پروفیسر نے دروازہ کھولا۔
باہر کوئی نہیں تھا۔
واپس مڑے تو ڈائری میز سے غائب تھی۔
اسی لمحے شیشے پر کسی نے انگلی سے لکھا:
"میں آ گئی ہوں..."
پروفیسر کا گلا خشک ہو گیا۔
اچانک پیچھے سے ایک لڑکی کی آہستہ آواز آئی۔
"سر... میری فائل کہاں ہے؟"
انہوں نے مڑ کر دیکھا۔
سفید لباس میں ایک لڑکی کھڑی تھی۔ اس کا چہرہ بالوں میں چھپا ہوا تھا اور اس کے پاؤں زمین کو چھو ہی نہیں رہے تھے۔
پروفیسر خوف سے کانپنے لگے۔
انہوں نے آنکھیں بند کیں اور دوبارہ کھولیں۔
لڑکی غائب تھی۔
لیکن اس کے گیلے قدموں کے نشان فرش پر موجود تھے...
اگلی صبح چوکیدار نے پروفیسر کو ان کے دفتر میں بے ہوش پایا۔
جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔
صرف استعفیٰ لکھ کر یونیورسٹی چھوڑ دی۔
لوگوں نے سمجھا شاید وہ بیمار ہو گئے ہیں۔
لیکن چند دن بعد ایک نئے پروفیسر نے وہی دفتر سنبھالا۔
میز کی دراز کھولی تو وہی پرانی ڈائری اندر رکھی تھی۔
آخری صفحے پر اس بار ایک نیا جملہ لکھا تھا۔
"پہلا چلا گیا... اب دوسرے کا انتظار ہے۔"
اسی لمحے دفتر کا دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔
اور راہداری میں پھر وہی آواز گونجی...
ٹک... ٹک... ٹک...
اختتام... یا شاید آغاز۔



